Download WordPress Themes, Happy Birthday Wishes
تازہ ترین

جسم مٹی کا ہے مٹی پہ ہی رہ جانا ہے

غزل
علی ارمانؔ

جسم مٹی کا ہے مٹی پہ ہی رہ جانا ہے
روح نے اپنی کسی موج میں بہہ جانا ہے

جانبِ دشت نکلنا ہے تو جلدی نکلو
رہتے رہتے تمھیں ورنہ یہیں رہ جانا ہے

رات کی رات ہے خوابوں کی یہ جادونگری
صبح ہوتے ہی محلّات نے ڈھہہ جانا ہے

میں ہوں ندّی میں اُگا پھول لڑوں گا کب تک
توڑ لو مجھ کو وگرنہ مجھے بہہ جانا ہے

مت دکھاؤ ہمیں تالاب میں مہتاب کے عکس
ہم چکوروں نے میاں جانبِ مہہ جانا ہے

تم جو کہتے ہو کہ ہیں عارضی موسم سارے
یہ تو ٹوٹے ہوئے پتّوں نے بھی کہہ جانا ہے

دیکھ لویار کے دیدار سے پہلے سب کچھ
اس کو دیکھو گے تو ہر چیز نے گہہ جانا ہے

تجھے محسوس یہ ہو گا کہ کرم ہے تیرا
ہم نے ایسے ترے ہر ظلم کو سہہ جانا ہے

ایک ساعت سے بھی کچھ کم ہے سماں عالم کا
ہم نے یہ راز بہ یک تارِنگہ جانا ہے

علی ارمانؔ مری جان ذرا آنکھیں کھول
تو نے اس راہ کو رہنے کی جگہ جانا ہے

تعارف: aaadmin

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*