Political Commentary
No Comments غلاموں کا احتجاج
دو مئی کی رات امریکی ہیلی کاپٹر دندناتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوئے مگر کسی ریڈار کے کان پر جوں تک نہ رینگی امریکی پاکستان کی ایک مایہ ناز ملٹری اکیڈمی سے آٹھ سو گز کے فاصلے پر گھنٹوں اسامہ بن لادن کے مجوزہ مکان پر آپریشن بلکہ بڑا آپریشن کرتے رہے۔ امریکن نیوی سیلز کے ھیلی کاپٹرز ایبٹ آباد کی خاموش فضاؤں میں پھڑپھڑاتے رہے فائرنگ بھی ہوتی رہی اوربقول امریکہ مخالف فائرنگ سے ان کا ایک ھیلی کاپٹر بھی تباہ ہوا مگر صرف آٹھ سو گز دور کاکول کی دیواریں اور دروازے اندھے اور بہرے بنے رہے
۔ یہ خبر واشنگٹن کے وائٹ ہاؤس اور پینٹا گان سے ہوتی ہوئی پنڈی کے جی ایچ کیو میں پہنچی کہ اٹھ نی سسیے! سُتیے تیرا لٹیا ای شہر بھنبور ۔ بھنبور لٹتے وقت ہم اندھے اور بہرے تھے مگر اس واقعے کے بعد کاایک ہفتہ تو ہماری گھگھی بھی بندھ گئی اور ہم گونگے بھی ہو گئے ۔ کئی دن بعد ہکلاتے ہکلاتے آئی ایس پی آر نے ایک آدھ بیان داغا مگر وُہ ایسا الجھا الجھا اور ایسا شرمندہ شرمندہ کہ جیسے بارش میں چلنے والی پھلجڑی ۔ ہم نے ایسے نظریں جھکا کر منحنی آواز میں احتجاج کیا جیسے چوہدری سے تھپڑ کھا کر کوئی کمیں احتجاج کرتا ہے۔ بیچارہ اپنی کچلی ہوئی پامال انا کے ہاتھوں احتجاج پربھی مجبور ہوتا ہے اور اسے یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ کہیں چوہدری احتجاج سن کر لاتوں گھونسوں کی بارش نہ کر دے یا اس پر اپنے خونخوار کتے نہ چھوڑ دے ۔ لہذا اس کا یہ احتجاج ایک کمزور بڑبڑاہٹ یا ایک مدھم سرگوشی سے آگے نہیں بڑھتا۔
یہ تو قصہ ہوا ایبٹ آباد کا اب میں آپ کو لے چلتا ہوں مہمند ایجنسی کی سلالہ چیک پوسٹ پر جہاں چھبیس نومبر دو ہزار گیارہ صبح دو بجے نیٹو کے دو اپاچی ہیلی کاپٹر، دو ایف پندرہ ای ایگل اور ایک اے سی ایک سو تیس گن شپ جہاز چیختے چنگھاڑتے ہوئے پاکستان کی سرحد میں تقریبا ڈھائی کلومیٹر اندر تک داخل ہوئے اور پاکستان فوج کی دو چوکیوں باؤلڈر اور والکینو پر قریبا دو گھنٹے پاک فوج کے جوانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد اطمینان سے واپس چلے گئے۔
اس واقعہ پر عوام میں غم وغصہ کی اس قدر شدید لہر اٹھی کہ حکومت اور فوج کو لامحالہ پاکستان میں امریکی مفادات پر کچھ دکھاوے کی ضربیں لگانا پڑیں ۔ میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر عوام میں سلالہ چیک پوسٹ کے اس حملے کے بعد امریکہ مخالف جذبات اس قدر نہ بھڑکتے اور جرنیلوں کو اپنے نچلے رینکز کے آفیسران اور پاکستان واسلام پرست دھڑے کی بغاوت کی حدوں کو چھوتی ہوئی بے چینی کا خیال نہ ہوتا تو نہ نیٹو سپلائی بند ہوتی اور نہ شمسی ایئربیس خالی خالی کروایاجاتاجس کی امریکہ کو اب کچھ خاص ضرورت بھی نہیں رہی تھی۔ پچھلے دس سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کمائی کھانے والے پاکستان کے اس حکمران ٹولے نے سپلائی لائن امریکہ کو پس پردہ دی گئی اس یقین دہانی کے بعدبند کی تھی کہ عوام کے جذبات کچھ ٹھنڈے ہونے پر جلد ہی اس مسئلے کا کوئی حل نکال لیا جائے گا۔اور امریکی سامان لے کر کنٹینرز جلد ہی کراچی سے خیبر کی طرف دوبارہ روں دواں ہوں گے۔ مگر ایسا ہو نہ سکا اور ایک بار نیٹو سپلائی بند کر دینے کے بعد اسے کھولنا حکومت کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہو گیا۔ گزشتہ دس سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلقہ تمام پالیسی سازی کے مالک ومختار رہنے والے فوجی جرنیلوں کے لیے بھی عوام کے غم وغصے اور فوج کے اندرونی دباؤ کی وجہ سے ممکن نہیں تھا کہ وہ نیٹو سپلائی کھول کر اپنے خلاف نفرت کو اور ہوا دیتے اور اپنی رہی سہی ساکھ کو اوربھی خراب کرتے جو دو مئی کو ایبٹ آباد پر امریکہ کے یکطرفہ اسامہ بن لادن آپریشن کے بعد پہلے ہی انتہائی پستیوں کو چھورہی تھی۔ اس لیے انھوں نے یہ گیند حکومت کے کورٹ میں اس امید اور یقین کے ساتھ پھینک دی کہ وہ اس صورتحال میں اپنے مفاہمتی لوٹے کو گھما کر اس میں سےیقینا ان کی پسند کی پرچی نکال لیں گے۔ تا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں رکے ہوئے ڈالر بحال ہوں اور گلشن کا کاروبار چلے۔
دوسری طرف ردی کاغذوں اور ٹشو پیپروں جیسے سیاستدانوں کا پلندہ اکٹھا کرکے پاکستان کی ایجنسیوں نے بلکہ ایک ایجنسی نے دفاع پاکستان کونسل کے نام سے ایک کٹھ پتلی تحریک شروع کروا دی اس کے کئی مقاصد تھے ایک طرف تو امریکہ کے ساتھ حکومت اور فوج کی بارگینگ پوزیشن کو بہتر بنانا تھا ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ کوئی حقیقی امریکہ مخالف تحریک نہ شروع ہو جائے ۔ اس ڈمی تحریک کے کئی مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عوامی غصے کو کتھارسس کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مل جائے جہاں ہمارے غیور اورفاقہ زدہ عوام نعرے لگا لگا ذرا ٹھنڈے پڑ جائیں اوراس دوران بازیگران جمہوریت کرتب دکھا دکھا کر ، کبھی ان کا جی للچا کر ،کبھی ان کو لیاری اور لوڈشیڈنگ میں اضافے کے دوسرے ایشوز میں الجھا کر ، اور کبھی عالمی پابندیوں سے ڈرا ڈرا کرنیٹو سپلائی بحال کرنے پر آمادہ کر سکیں ۔ پاکستان کے سٹیٹ آف دی آرٹ وزیر اعظم کے برطانوی دورے کے بعد ہماری ورلڈ برینڈڈ وزیر خارجہ اور لوکل برینڈڈ وزیر دفاع کے بیانات سے لگتا ہے کہ نیٹو سپلائی کھلنے والی ہے ۔ اور امریکہ کی اندرونی انتخابی سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں لگتا کہ امریکہ پاکستان کی پارلیمان میں نیٹو سپلائی بحالی کےلیے پاس ہونے والی قرارداد کی دو بنیادی شرائط یعنی سلالہ حملے پر معافی اور ڈرون حملے بند کرنے میں سے کوئی ایک بھی شرط مانے گا۔
اس سارے ڈرامے کا المیہ یہ ہے عوام اس سارے چکر میں دوبارہ بیوقوف بنیں گے صد افسوس کہ جن احتجاجی تماشوں پر آ کر وُہ امریکہ مخالف نعروں سے اپنے گلے کا ستیاناس کرتے ہیں انھیں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ تو انھیں بہتر قیمت پر امریکہ کو بیچنے کے لیےلگائے جاتے ہیں اور لگانے والے کوئی اور نہیں بلکہ اپنے تئیں ہماری نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اب جب ہم دوبارہ پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر آمادہ ہوں گے اور امریکی سپلائی (جسے بڑی چالاکی سے نیٹو سپلائی کہا جاتا ہے) بحال کریں گے تو دفاع پاکستان کونسل ایک آدھ دھواں دھار جلسہ یا جلسی کر لینے کے بعد گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو جائے گی ۔ میاں صاحب بغیر دانتوں والے شیر کی طرح ایک مضحکہ خیز بڑھک لگائیں گے۔ جو باقی بچے وُہ بغلیں بجائیں گے ۔ فوج بدستور ملک کی سب سے زیادہ محب وطن قوت کے طور پر وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتی رہے گی۔ جرنیلوں کو ستو کے نئے ذخائر خریدنے کے لیے دوبارہ ڈالر ملنا شروع ہو جائیں گے سیاستدانوں کو بجٹ بنانے کے لیے کچھ ریزگاری مل جائے گی اور وُہ بھی ان کی زنبیل نما جیبوں سے ہوتی ہوئی دوبارہ ان کے بیرون ملک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہو جائے گی ۔ باقی رہ گئے بیچارے عوام تو ان کا کیا ہے ان کامقدر تو بھوک ،بیماری ،جہالت اور ذلت کے گڑھوں میں سسکتے رہنا ہے۔ دن کو دھوپ کے جہنم میں جلنا اور رات کو مچھروں سے جوتے کھانا ہے اور بالآخر کسی بے یارومددگار دن یا کسی ناکس و ناچار رات کو کسی مچھر ہی کی طرح کچلے جانا ہے۔ شاید ان کا مسیحا کوئی نہیں۔ تیر ہو ، شیر ہو یا ہو بلّا،وہی ہیں غنڈے وہی محلہ اللہ اللہ خیر صلا۔